نئی دہلی، 15؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اکثر کھلاڑی ملک کا نام روشن کرنے کے لئے جی جان سے محنت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو بھی ان کی حوصلہ افزائی کو بہتر بنانے کے لئے انہیں کئی سہولیات دینے چاہئے،بڑی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی کھلاڑیوں کی حالت بہت ہی خراب ہے،حال ہی میں آسام میں ایسا ہی ایک تازہ معاملہ دیکھنے کو ملا ہے۔دراصل تیر اندازی میں قومی سطح پر گولڈ میڈل جیت چکی کھلاڑی بولی باسومیتری اب ہائی وے کنارے سنترا فروخت کرنے کے لیے مجبور ہیں،وہ گزشتہ 3سال سے چرانگ ہائی وے پر سنترا بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ بھرکر پرورش کر رہی ہیں۔باسومیتری نے بتایا کہ انہوں نے قومی سطح پر کئی میڈل جیتے ہیں،اس کی بنیاد پر انہوں نے آسام پولیس میں ملازمت کے لئے درخواست بھی دی تھی لیکن آج تک انہیں پولیس محکمے میں نوکری نہیں مل پائی۔2010میں کسی جسمانی مسئلہ کی وجہ سے باسومیتری کو اپنے پسندیدہ کھیل تیر اندازی کو الوداع کہنا پڑا۔باسومیتری کی دو بیٹیاں بھی ہیں، جن کی بالترتیب عمر 2اور 3سال کی ہے،بھلے ہی حکومت کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے کھلاڑیوں کو ملازمت دینے کی بات کہتی ہیں، لیکن ایسا ہوتا نہیں،اگرچہ اب ریاستی حکومت کی جانب سے باسومیتری کی مدد کی بات کہی جا رہی ہے۔